14 ستمبر 2012 - 19:30

انھوں نے کہا رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا آپ (ص) کی توہین کی سازش کی طرف اشارہ کیا اور کہا:اسلام کے مقدسات پر دشمنوں کا حملہ مسلمانوں کے اتحاد اور یکجہتی کو تقویت پہنچائے گی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "ائمۂ اطہار (علیہم السلام) فقہی مرکز" کے سربراہ آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی نے اس مرکز کی سترہویں سالگرہ کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کی مغربی سازش پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا: اسرائیل کے پیسوں سے بننے والی اس فلم کے دو پہلؤوں پر بحث کی جاسکتی ہے:اس واقعے کا پہلا ناگوار پہلو یہ ہے کہ اس فلم میں عالم وجود کے مقدس ترین اور شریف ترین انسان کی توہین ہوئی ہے جس سے تمام حریت پسند انسانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے سے نفرت کے اظہار کے موجودہ اقدامات یہیں نہ رکیں اور دینی حوزات اور مدارس اس سلسلے کو جاری رکھیں۔ اس فلم اور اس بھیانک سازش کا دوسرا پہلو مثبت ہے اور وہ یوں کہ جب گذشتہ سال اس پاگل امریکی پادری نے قرآن سوزی کا اقدام کیا تو امریکہ میں قرآن مجید سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی اور موجودہ توہین بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے بیشتر اتحاد و یکجہتی کی بنیاد بن گئی۔ انھوں نے کہا: ان واقعات کی وجہ سے مسلمانوں کی آگہی میں اضافہ ہوا اور غیر مسلم پہلے سے کہیں زيادہ اسلام کی طرف مائل ہونگے۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی نے مغرب میں اسلام کے فروغ کے حوالے سے بعض اعداد و شمار پیش کئے اور کہا: معرب میں اسلام کا فروغ روز افزون ہے اور مغربی ممالک کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ـ جو عام طور پر حقائق بیان کرنے کا حق بھی ادا نہیں کرتے ـ حالیہ دس برسوں کے دوران مغربی ممالک میں اسلام کی طرف رجحان میں سابقہ عشروں کی نسبت 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی بزرگ مرجع تقلید مرحوم آیت اللہ العظمی شیخ محمد فاضل لنکرانی کے فرزند ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110